13 نومبر 2015 - 15:31
بیروت: خودکش دھماکوں میں شہیدوں کی تعداد تینتالیس اور زخمیوں کی تعداد دوسو سے زائد

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں جمعرات کی رات خود کش دھماکوں میں تینتالیس افراد شہید اور دوسو سے زائد زخمی ہوگئے ۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔لبنانی رہنماؤں نے ان دھماکوں کو عوام کو آپس میں لڑانے کی ناپاک سازش قرار دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق لبنان کے وزیراعظم سلام تمام نے جنوبی بیروت کے شیعہ آبادی والے علاقے ضاحیہ میں جمعرات کی شب ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے عوام کو لڑانے اور کشیدگی میں اضافے کو اس غیر انسانی اقدام کا مقصد قرار دیا ہے۔

لبنان کے وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملکی ترقی وپیشرفت کے دشمنوں کے مقابلے میں پوری طرح ہوشیار اور ملی یکجہتی کو محفوظ رکھیں۔انہوں نے ملک میں جمعے کے روز عام سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔
لبنان کے وزیر داخلہ نہاد المشنوق نے بھی دہشت گردی کے اس کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے یہ بات زور دیکر کہی کہ حکومت دہشت گردوں اور مجرموں کے خلاف کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گی۔ لبنان کے رکن پارلیمنٹ اور عیسائی لیڈر میشل عون نے خطے میں دہشت گرد گروہوں کے حامی ملکوں کو لبنانی عوام کے قتل عام کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممالک خطے میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو تربیت دیگر انہیں بے گناہوں کے قتل کے لیے لبنان بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے حامی خطے میں اپنے مقاصد میں ناکامی کے بعد بم دھماکوں کے ذریعے عام لوگوں سے اپنی شکست کا انتقام لے رہے ہیں۔
لبنان کے مفتی اعظم شیخ عبدالطیف دربان، سوشلسٹ ترقی پسند پارٹی کے سربرا ولید جنبلاط، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور اراکین پارلیمنٹ نیز لبنان کے وزیر صحت نے بھی بیروت کے شیعہ آبادی والے علاقے میں دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے پوری قوم کو نشانہ بنایا ہے لہذا تمام لبنانیوں کا فرض ہے کہ وہ آپس میں پوری طرح متحد رہیں اور دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔
لبنان کے سیکورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ جمعرات کی شب ضاحیہ میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم سے کم تینتالیس افراد شہید اور دوسو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تین عناصر نے یہ کارروائی انجام دی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق پہلے ایک دہشت گرد نے ضاحیہ کے علاقے میں واقع ایک مارکیٹ میں خود کو دھماکے سے اڑالیا، اس کے تھوڑی ہی دیر کے بعد ایک اور خود کش حملہ آور نے مسجد امام حسین علیہ میں گھسنے کی کوشش جسے حفاظت پر مامور نوجوانوں نے ناکام بنادیا تاہم حملہ آور نے مسجد کے دروازے پر خود کش جیکٹ میں دھماکہ کردیا۔ تیسرا دہشت گرد جو ایک اور مقام پر عام لوگوں کے درمیان دھماکہ کرنا چاہتا تھا حزب اللہ کے جوانوں اور سیکورٹی اہلکاروں نے اسے بروقت گرفتار کرلیا۔
کہا جارہا ہے کہ لبنان کی وزارت داخلہ اور حزب اللہ کے سیکورٹی شعبے کو ایک اور حملہ آور کے داخل ہونے کی اطلاعات ملی ہیں جس کی تلاش کی جارہی ہے۔
لبنان کے اسٹریٹیجک امور کے ماہر الیاس فرحات کا کہنا ہے کہ ان کا ملک القاعدہ اور داعش کے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیروت میں دھماکے، شام کے علاقے حلب ، قنیطرہ اور درعا میں شامی فوج اور حزب اللہ کے جوانوں کی کامیاب پیشقدمی کے بعد ہوئے ہیں۔بیروت میں خود کش دھماکوں میں تینتالیس افراد شہید اور دوسو سے زائد زخمی

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں جمعرات کی رات خود کش دھماکوں میں تینتالیس افراد شہید اور دوسو سے زائد زخمی ہوگئے ۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔لبنانی رہنماؤں نے ان دھماکوں کو عوام کو آپس میں لڑانے کی ناپاک سازش قرار دیا ہے۔

لبنان کے وزیراعظم سلام تمام نے جنوبی بیروت کے شیعہ آبادی والے علاقے ضاحیہ میں جمعرات کی شب ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے عوام کو لڑانے اور کشیدگی میں اضافے کو اس غیر انسانی اقدام کا مقصد قرار دیا ہے۔
لبنان کے وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملکی ترقی وپیشرفت کے دشمنوں کے مقابلے میں پوری طرح ہوشیار اور ملی یکجہتی کو محفوظ رکھیں۔انہوں نے ملک میں جمعے کے روز عام سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔
لبنان کے وزیر داخلہ نہاد المشنوق نے بھی دہشت گردی کے اس کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے یہ بات زور دیکر کہی کہ حکومت دہشت گردوں اور مجرموں کے خلاف کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گی۔ لبنان کے رکن پارلیمنٹ اور عیسائی لیڈر میشل عون نے خطے میں دہشت گرد گروہوں کے حامی ملکوں کو لبنانی عوام کے قتل عام کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممالک خطے میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو تربیت دیگر انہیں بے گناہوں کے قتل کے لیے لبنان بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے حامی خطے میں اپنے مقاصد میں ناکامی کے بعد بم دھماکوں کے ذریعے عام لوگوں سے اپنی شکست کا انتقام لے رہے ہیں۔
لبنان کے مفتی اعظم شیخ عبدالطیف دربان، سوشلسٹ ترقی پسند پارٹی کے سربرا ولید جنبلاط، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور اراکین پارلیمنٹ نیز لبنان کے وزیر صحت نے بھی بیروت کے شیعہ آبادی والے علاقے میں دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے پوری قوم کو نشانہ بنایا ہے لہذا تمام لبنانیوں کا فرض ہے کہ وہ آپس میں پوری طرح متحد رہیں اور دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔
لبنان کے سیکورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ جمعرات کی شب ضاحیہ میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم سے کم تینتالیس افراد شہید اور دوسو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تین عناصر نے یہ کارروائی انجام دی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق پہلے ایک دہشت گرد نے ضاحیہ کے علاقے میں واقع ایک مارکیٹ میں خود کو دھماکے سے اڑالیا، اس کے تھوڑی ہی دیر کے بعد ایک اور خود کش حملہ آور نے مسجد امام حسین علیہ میں گھسنے کی کوشش جسے حفاظت پر مامور نوجوانوں نے ناکام بنادیا تاہم حملہ آور نے مسجد کے دروازے پر خود کش جیکٹ میں دھماکہ کردیا۔ تیسرا دہشت گرد جو ایک اور مقام پر عام لوگوں کے درمیان دھماکہ کرنا چاہتا تھا حزب اللہ کے جوانوں اور سیکورٹی اہلکاروں نے اسے بروقت گرفتار کرلیا۔
کہا جارہا ہے کہ لبنان کی وزارت داخلہ اور حزب اللہ کے سیکورٹی شعبے کو ایک اور حملہ آور کے داخل ہونے کی اطلاعات ملی ہیں جس کی تلاش کی جارہی ہے۔
لبنان کے اسٹریٹیجک امور کے ماہر الیاس فرحات کا کہنا ہے کہ ان کا ملک القاعدہ اور داعش کے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیروت میں دھماکے، شام کے علاقے حلب ، قنیطرہ اور درعا میں شامی فوج اور حزب اللہ کے جوانوں کی کامیاب پیشقدمی کے بعد ہوئے ہیں۔

.......

/169